نئی دہلی:10/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی کے چاندنی چوک میں واقع شاہی مسجد فتحپوری کے نائب شاہی امام حضرت مولانا معظم احمدکو آج ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیاگیا ۔ مرحوم قریب 62سال کے تھے اورگزشتہ شب علاج کے دوران اسپتال میں انتقال ہو گیا تھا ۔پسماندگان میں اہلیہ سمیت 2 بیٹے اور1بیٹی کے علاوہ 4بھائی اور 5بہن ہیں ۔ خیال رہے کہ گزشتہ روزمرحوم کو اٹیک ہوا تھااور سینٹ اسٹیفن اسپتال میں داخل کرایاگیاتھا لیکن طبیعت مزید خراب ہوتی چلی گئی اور قریب 9بجے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ آج صبح 11بجے مرحوم کے بڑے بھائی شاہی امام ڈاکٹر مفتی مکرم احمدنے جنازہ کی نماز اداکرائی اور تدفین شاہی مسجد فتحپوری کے صحن میں واقع حضرت نانو شاہؒ احاطہ میں عمل میں آئی ۔اس موقع پرشاہجہانی جامع مسجد کے خطیب و امام مولاناسید احمد بخاری ،دہلی کے وزیر عمران حسین ،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سربراہ نوید حامد،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن کمال فاروقی ،ایران کے نائب سفیر محمد حسن شجاعی،سابق ایم ایل اے ہارون یوسف ،ہیو من ویلفئر فاؤنڈیشن کے فاروقی ،ایم .قذافی ، پروفیسر غلام یحیی انجم ،مولانا یعقوب ،مولانا انس فاروقی نقشبندی ،مولانا اشتیاق قادری، مولانا جاوید علی نقشبندی،مولاناعبد القادر حبیبی ،جمیل انجم دہلوی، حاجی میاں فیاض الدین ،امین الدین نظامی ،ایم نفیس کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند وجماعت اسلامی ہند سمیت دیگر ملی تنظیموں کے سربراہان نے تدفین میں پہنچ کرمولانا معظم (مرحوم)کے لیے اظہار تعزیت پیش کی اور دعائے مغفرت کی ۔اس کے علاوہ ہندوستان بھر سے متعدد جماعتوں وتنظیموں کے کارکنان نے شاہی امام مفتی مکرم سے بذریعہ فون پرتعزیت کااظہار کیا۔واضح رہے کہ مرحوم نے مسجد فتحپوری میں تقرباً 40سال امامت کے فرائض انجام دئے،یہی نہیں آل انڈیا تحریک حمایت الاسلام کے صدر ،سینٹر حج کمیٹی ودہلی وقف بورڈ کے ممبر بھی رہ چکے تھے۔